بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نماز کے اوقات کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل نماز کے اوقات کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1218 سنن دارمی
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، جَابِرٌ
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهِ عَنْهُمَا فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ وَكَانَ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ جَابِرٌ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ وَهِيَ حَيَّةٌ أَوْ نَقِيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ حِينَ تَجِبُ الشَّمْسُ، وَالْعِشَاءَ رُبَّمَا عَجَّلَ وَرُبَّمَا أَخَّرَ: إِذَا اجْتَمَعَ النَّاسُ عَجَّلَ، وَإِذَا تَأَخَّرُوا، أَخَّرَ، وَالصُّبْحَ رُبَّمَا كَانُوا أَوْ كَانَ يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
محمد بن حسن بن علی نے کہا: ہم نے سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما سے حجاج کے زمانے میں پوچھا جو کہ نماز تاخیر سے پڑھتے تھے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا، اور عصر کی نماز (اس وقت پڑھتے) جب سورج صاف ہو جاتا، اور نماز مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا اور عشاء کی نماز کبھی جلدی اور کبھی دیر سے پڑھتے تھے، جب لوگ جمع ہو جاتے تو جلدی پڑھ لیتے اور جب لوگ تاخیر کرتے تو آپ تاخیر سے نماز پڑھتے، اور صبح کی نماز وہ سب (یا یہ کہا) یا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اندھیرے میں پڑھتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1218]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1222] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 560] ، [مسلم 646] ، [مسند أبى يعلی 2029] ، و [ابن حبان 1728] ۔ واضح رہے کہ ان تمام مصادر میں ( «رُبَّمَا» ) کا لفظ موجو نہیں ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1219 سنن دارمی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ ، أَبِيهِ ، عُرْوَةُ ، عَائِشَةُ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ؟ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:"بِهَذَا أُمِرْتَ". قَالَ: اعْلَمْ مَا تُحَدِّثُ يَا عُرْوَةُ، أَوَ أَنَّ جِبْرِيلَ أَقَامَ وَقْتَ الصَّلَاةِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ. قَالَ عُرْوَةُ: وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابن شہاب سے مروی ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ایک دن (عصر کی) نماز میں دیر کی تو عروہ بن زبیر ان کے پاس آئے اور عرض کیا کہ (اسی طرح) مغیرہ بن شعبہ نے ایک دن نماز میں تاخیر کی تو سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فرمایا: مغیرہ یہ کیا ہے؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تشریف لائے تو انھوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی نماز پڑھی، پھر جبریل علیہ السلام نے نماز پڑھی تو آپ نے بھی نماز پڑھی، پھر انھوں نے نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی نماز پڑھی، پھر انھوں نے نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی نماز پڑھی، پھر (جبریل علیہ السلام) نے نماز پڑھی، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی نماز پڑھی، پھر جبریل علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے اسی طرح کا حکم دیا گیا ہے، (اس پر) عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: عروہ تمہیں معلوم ہے کیا بیان کر رہے ہو، کیا جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز کے اوقات عمل کر کے بتائے تھے؟ عروہ نے کہا: بشیر بن ابی مسعود بھی اپنے والد کے طریق سے ایسے ہی بیان کرتے تھے۔ عروہ نے کہا: مجھ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھ لیتے تھے جب دھوپ ابھی ان کے حجرے میں موجود ہوتی تھی، اس سے بھی پہلے کہ وہ دیوار پر چڑھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1219]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 1223] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 521] ، [مسلم 610] و [أصحاب السنن، أحمد 274/5] ، [ابن حبان 1449] ، [الحميدي 456]
وضاحت
(تشریح احادیث 1218 سے 1219)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اوقاتِ نماز کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ جبریل علیہ السلام نے الله تعالیٰ کی طرف سے اس کی قولاً و عملاً تعلیم دی، نیز یہ کہ ہر نماز کی ادائیگی اوّل وقت میں الله کو بہت محبوب ہے۔
جیسا کہ حدیث میں ہے: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا الله تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کونسا عمل ہے؟ فرمایا: اوّل وقت میں نماز پڑھنا «(أو كما قال عليه الصلاة والسلام)» دیکھئے: رقم (1259) و [بخاري 527] ۔
اس حدیث میں پانچوں نمازوں کے وقت کی تحدید کے علاوہ اور بھی کتنے ہی فوائد ہیں، ایک یہ کہ سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت کو دور کرنے کے لئے علماء کا امراء کے دربار میں جانا صحیح ہے، نیز یہ کہ اوّل وقت میں نماز پڑھنے کی اس حدیث میں فضیلت ہے اور صحیح بات مان لینا بھی اس سے ثابت ہوتا ہے۔
والله اعلم