بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حائضہ کے تعویذ لٹکانے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل حائضہ کے تعویذ لٹکانے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1208 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي الْمَرْأَةِ الْحَائِضِ فِي عُنُقِهَا التَّعْوِيذُ أَوْ الْكِتَابُ، قَالَ: "إِنْ كَانَ فِي أَدِيمٍ، فَلْتَنْزِعْهُ، وَإِنْ كَانَ فِي قَصَبَةٍ مُصَاغَةٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَلَا بَأْسَ، إِنْ شَاءَتْ، وَضَعَتْ، وَإِنْ شَاءَتْ، لَمْ تَفْعَلْ"، قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ: تَقُولُ بِهَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حائضہ عورت کے اپنے گلے میں تعویذ یا قرآن (آیت) لٹکانے کے بارے میں عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے، فرمایا: اگر چمڑے پر لکھا ہو تو عورت اس کو نکال دے، اور اگر چاندی کے خول میں ہو تو کوئی حرج نہیں، چاہے تو نکال دے اور چاہے تو نہ نکالے۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: آپ بھی یہی کہتے ہیں؟ فرمایا: ہاں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1208]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عطاء، [مكتبه الشامله نمبر: 1212] »
عطاء رحمہ اللہ تک اس روایت کی سند صحیح ہے، اور اسے ابن ابی شیبہ نے [مصنف 38/7، 3595] میں اور عبدالرزاق نے [مصنف 1347] میں ذکر کیا ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 1207)
تعویذ لٹکانا في ذاتہ غلط ہے چہ جائیکہ حالتِ حیض میں وہ تعویذ چاہے آیتِ قرآنیہ سے لکھا گیا ہو یا اعداد ہندسوں میں لکھا گیا ہو، کسی صورت جائز نہیں، علمائے کرام کا اصح قول یہی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے: «إِنَّ الرُّقَي وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةً شِرْكٌ.» جھاڑ پھونک، تعویذ، محبت کیلئے اعمال سب شرک ہیں۔
لہٰذا اس سے بچا جائے۔
اس حدیث «إِنَّ الرُّقَي» کے لئے دیکھئے: [أبوداؤد 3883] ، [ابن ماجه 3576] ، [مسند أحمد 381/1] ۔
الحكم: إسناده صحيح إلى عطاء