بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مستحاضہ سے جماع کی ممانعت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل مستحاضہ سے جماع کی ممانعت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 850 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ حَفْصٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: كَانَ يَقُولُ: الْمُسْتَحَاضَةُ لَا يَغْشَاهَا زَوْجُهَا، قَالَ أَبُو النُّعْمَانِ: قَالَ لِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ: "لَا أَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ هَذَا عَنْ الْحَسَنِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حفص سے مروی ہے: امام حسن بصری رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ مستحاضہ سے اس کا شوہر جماع نہیں کرے گا۔ ابوالنعمان نے کہا: یحییٰ بن سعید القطان نے مجھ سے کہا: میں نہیں جانتا کہ حسن سے کسی نے یہ قول روایت کیا ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 850]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح ولكنه شاذ، [مكتبه الشامله نمبر: 854] »
اس روایت کی سند تو صحیح ہے لیکن شاذ ہے، اور پیچھے اس کے برعکس امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول گذر چکا ہے۔ دیکھئے اثر رقم (835، 843، 849)۔
الحكم: إسناده صحيح ولكنه شاذ
حدیث نمبر: 851 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: "كَانَ مُحَمَّدٌ يَكْرَهُ أَنْ يَغْشَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
خالد (بن مہران) سے مروی ہے کہ امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ مستحاضہ عورت سے جماع کو مکروہ سمجھتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 851]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 855] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 278/4]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 852 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "الْمُسْتَحَاضَةُ لَا يَأْتِيهَا زَوْجُهَا، وَلَا تَصُومُ، وَلَا تَمَسُّ الْمُصْحَفَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: مستحاضہ سے اس کا شوہر جماع نہیں کرے گا، نہ وہ روزہ رکھے گی، نہ مصحف کو ہاتھ لگائے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 852]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 856] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1193] و [التمهيد 68/16]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 853 سنن دارمی
الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَجَّاجٌ الْأَعْوَرُ ، شُعْبَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، الشَّعْبِيِّ ، قَمِيرَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الْأَعْوَرُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَمِيرَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "الْمُسْتَحَاضَةُ لَا يَأْتِيهَا زَوْجُهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
قمیر سے مروی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مستحاضہ سے اس کا شوہر ہم بستری نہیں کرے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 853]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 857] »
اس قول کی نسبت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 278/4]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 854 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: "الْمُسْتَحَاضَةُ لَا تُجَامَعُ، وَلَا تَصُومُ، وَلَا تَمَسُّ الْمُصْحَفَ، إِنَّمَا رُخِّصَ لَهَا فِي الصَّلَاةِ"، قَالَ يَزِيدُ:"يُجَامِعُهَا زَوْجُهَا، وَيَحِلُّ لَهَا مَا يَحِلُّ لِلطَّاهِرِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ کہا جاتا تھا کہ مستحاضہ سے جماع نہیں کیا جائے گا، نہ وہ روزے رکھے گی، نہ مصحف چھوئے گی، بس اس کو نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ یزید بن ہارون (اس کے راوی) نے کہا: اس کا شوہر اس سے ہم بستری بھی کرے گا اور اس (مستحاضہ) کے لئے ہر وہ چیز حلال ہے جو پاکی والی عورت کے لئے حلال ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 854]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 858] »
اس قول کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: اثر رقم (849)۔
وضاحت
(تشریح احادیث 849 سے 854)
ان تمام آثار میں مستحاضہ سے جماع کی ممانعت اور نماز کے علاوہ اس کا حکم حائضہ کے حکم سے مشابہ ہے۔
لیکن یہ اقوال و آثار صحیح ہونے کے باوجود مرجوح اور اجتہادات ہیں، صحیح یہی ہے کہ مستحاضہ سے اس کا شوہر جماع کر سکتا ہے، وہ نماز بھی پڑھے گی، مصحف کو ہاتھ بھی لگا سکتی ہے اور پڑھ بھی سکتی ہے، جیسا کہ اس آخر اثر میں یزید بن ہارون نے کہا اور اس سے قبل والے باب میں اس کی تفصیل گذری ہے۔
الحكم: إسناده حسن