بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حیض والی عورت کے چٹائی بچھانے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل حیض والی عورت کے چٹائی بچھانے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 794 سنن دارمی
أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سُلَيْمَانُ أَخْبَرَنِي، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: "نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ"، قَالَتْ: إِنِّي حَائِضٌ، قَالَ:"إِنَّهَا لَيْسَتْ فِي يَدِكِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے کہا: مجھے چٹائی اٹھا دو۔ عرض کیا: میں تو حائضہ ہوں، فرمایا: حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 794]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 798] »
یہ حدیث ہے۔ دیکھئے: [مسلم 298] ، [أبوداؤد 261] ، [ترمذي 134] ، [نسائي 382] ، [أبويعلی 4488] ، [ابن حبان 1357]
وضاحت
(تشریح حدیث 793)
اس حدیث سے عورت کا گھر کے کام کاج میں بحالتِ حیض ہاتھ لگانا ثابت ہوا، یعنی وہ برتن دھو سکتی ہے، کھانا بنا سکتی ہے، شوہر کی خدمت کر سکتی ہے۔
دوسری احادیث سے حائضہ عورت کے ساتھ کھانا، مباشرت کرنا، اس سے کنگھی کرانا وغیرہ سب کی وضاحت اور اباحت آئی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح