بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
منی کے نکلنے پر غسل واجب ہونے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل منی کے نکلنے پر غسل واجب ہونے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 781 سنن دارمی
يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُعَادٍ ، أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُعَادٍ وَكَانَ مَرْضِيًّا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پانی پانی سے ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 781]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ليس بذاك ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 785] »
اس حدیث کی سند میں کلام ہے، لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [صحيح ابن حبان 1173] ، [موارد الظمآن 228]
وضاحت
(تشریح حدیث 780)
یعنی غسل منی نکلنے پر واجب ہوتا ہے، اس حدیث کو علماء نے احتلام پر محمول کیا ہے۔
الحكم: إسناده ليس بذاك ولكن الحديث صحيح
حدیث نمبر: 782 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، اللَّيْثُ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَ مِنْهُ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهً، أَنَّ الْفُتْيَا الَّتِي كَانُوا يُفْتَوْنَ بِهَا فِي قَوْلِهِ: "الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ"، رُخْصَةٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"رَخَّصَ فِيهَا فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ أَمَرَ بِالِاغْتِسَالِ بَعْدُ"، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وقَالَ غَيْرُهُ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ أَرْضَى عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا، سنا، اور جس وقت آپ کا انتقال ہوا، سہل کی عمر ۱۵ سال کی تھی، انہوں نے روایت کیا کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ پانی سے پانی ہے کا فتویٰ جو لوگ دیا کرتے تھے، تو یہ آسانی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابتدائے اسلام میں عطا فرمائی تھی، لیکن پھر بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غسل کرنے کا حکم دیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: دوسرے راوی نے کہا: امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: جس کو میں پسند کرتا ہوں، اس نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مجھے یہ حدیث بیان کی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 782]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 786] »
یہ روایت اس سند سے ضعیف ہے، لیکن متن الحدیث صحیح ہے، اور حکم وہی ہے کہ احتلام کا اثر دیکھے تب غسل واجب ہو گا، اور جماع میں مجرد دخول سے غسل واجب ہو جائے گا۔ تخریج کے لئے دیکھئے: [أبوداود 214] ، [ترمذي 110] ، [نسائي 201] ، [صحيح ابن حبان 1179] ، [الناسخ والمنسوخ لابن شاهين 17] و [موارد الظمآن 228]
وضاحت
(تشریح حدیث 781)
یعنی: اوّل اسلام میں یہ اجازت تھی کہ جماع کے بعد اگر انزال نہ ہو، پانی نہ نکلے تو غسل واجب نہیں ہوتا، لیکن بعد میں پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ منی نکلے یا نہ نکلے ایلاج سے غسل واجب ہے، جیسا کہ آگے حدیث میں آتا ہے۔
لہٰذا حدیث «الماء من الماء» منسوخ ہے، لیکن بعض علماء نے اسے احتلام پر محمول کیا ہے، کما ذُکر۔
الحكم: إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح
حدیث نمبر: 783 سنن دارمی
أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْجَمَّالُ ، مُبَشِّرٌ الْحَلَبِيُّ ، مُحَمَّدٍ أَبِي غَسَّانَ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أُبَيٌّ
أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْجَمَّالُ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ الْحَلَبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدٍ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهً، قَالَ: حَدَّثَنِي أُبَيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهً، أَنَّ الْفُتْيَا الَّتِي كَانُوا يُفْتَوْنَ بِهَا "الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ كَانَتْ رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ أَوْ الزَّمَانِ، ثُمَّ اغْتَسَلَ بَعْدُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ لوگ «الماء من الماء» کا جو فتویٰ دیتے ہیں، یہ رخصت تھی جو رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اول اسلام میں مرحمت فرمائی تھی، پھر بعد میں آپ نے غسل کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 783]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 787] »
یہ حدیث و سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداود 215] ، [ترمذي 110] ، [ابن ماجه 609] ۔ نیز دیکھئے پچھلی حدیث کے حوالہ جات۔
وضاحت
(تشریح حدیث 782)
خلاصۂ کلام یہ کہ احتلام کی صورت میں اور جماع کرتے وقت صرف عضو مخصوص داخل کرنے سے ہی غسل واجب ہو جاتا ہے، جیسا کہ اگلے باب میں آرہا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح