بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جنبی سونا چاہے تو کیا کرے؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل جنبی سونا چاہے تو کیا کرے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 779 سنن دارمی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ مِنْ اللَّيْلِ؟"فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْسِلَ ذَكَرَهُ، وَيَتَوَضَّأَ، ثُمَّ يَرْقُدَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: سیدنا عمر رضوان الله علیہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ مجھے رات میں جنابت لاحق ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ عضو کو دھو لیں وضو کریں اور سو جائیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 779]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 783] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 287] ، [مسلم 306] ، [صحيح ابن حبان 1212] ، [معرفة السنن والآثار للبيهقي 1516] و [المحلي 86/1]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 780 سنن دارمی
أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ عَنْهَا: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ؟، فَقَالَتْ:"كَانَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يَنَامُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن اسود سے مروی ہے، ان کے والد نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنابت کی حالت میں سونا چاہے تو کیا کرتے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ: آپ نماز کا سا وضو کرتے پھر سو جاتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 780]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 784] »
اس سند سے یہ روایت ضعیف ہے، لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 286] ، [مسلم 305] ، [صحيح ابن حبان 1217] ، [البيهقى فى معرفة السنن والآثار 1517] و [المحلي 220/2]
وضاحت
(تشریح احادیث 778 سے 780)
لہٰذا جو شخص حالتِ جنابت میں سونا چاہے اسے وضو کر لینا چاہیے، یہ اُمّت پر آسانی کے لئے ہے، وضو کر کے سو جائے لیکن نماز سے پہلے غسل کر لے، ورنہ سستی و کاہلی میں نماز چھوڑنے پر گنہگار ہوگا۔
الحكم: محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن ولكن الحديث صحيح