مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، ابْنِ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، مَيْمُونَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک چوھیا گھی میں گر کر مر گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”چوهيا اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال پھینکو اور (باقی بچا گھی) کھا لو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 761]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 765] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 235] ، [أبوداؤد 4841] ، [ترمذي 1798] ، [نسائي 4269] ، [أبويعلی 7078] ، [الحميدي 2314]
وضاحت
(تشریح حدیث 760)
نسائی کی ایک روایت میں اُم المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر گھی جما ہوا ہے تو آس پاس کا گھی نکال دو اور پگھلا ہوا اگر ہے تو اس کے قریب بھی نہ جاؤ۔
“ یعنی اسے (کھانے پینے میں) استعال نہ کرو۔
دیکھئے: [نسائي 4266] ، [أبوداؤد عن أبي هريرة 3842] ۔
الحكم: إسناده صحيح