بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بلا ضرورت وضو نہ کرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل بلا ضرورت وضو نہ کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 750 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، اللَّيْثُ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ، عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فِي يَدِهِ، ثُمَّ دُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَأَلْقَى السِّكِّينَ الَّتِي كَانَ يَحْتَزُّ بِهَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
جعفر بن عمرو بن اميہ سے مروی ہے کہ ان کے والد سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک بکری کا دستانہ چھری سے کاٹ کر کھا رہے تھے، اتنے میں نماز کے لئے بلائے گئے تو آپ نے سکین (چھری) چھوڑ دی جس سے گوشت کاٹ رہے تھے، پھر کھڑے ہوئے اور آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 750]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف كسابقه ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 754] »
اس حدیث کی سند بھی حسبِ سابق ضعیف ہے، لیکن حدیث اور معنی صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 208] ، [صحيح مسلم 355] ، [صحيح ابن حبان 1141] ، [نيل الأوطار 252/1]
وضاحت
(تشریح حدیث 749)
یہ حدیث مذکورہ بالا حدیث کی ناسخ ہے جس سے معلوم ہوا کہ پکا ہوا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے، نیز اس حدیث میں چھری سے گوشت کاٹنے کی بھی اباحت ہے۔
لہٰذا چھری سے کاٹ کر گوشت کھایا جا سکتا ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه ولكن الحديث صحيح