بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مذی کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل مذی کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 746 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، أَبِيهِ ، سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ أَلْقَى مِنْ الْمَذْيِ شِدَّةً، فَكُنْتُ أُكْثِرُ الْغُسْلَ مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَأَلْتُهُ عَنْهُ، فَقَالَ: "إِنَّمَا يُجْزِئُكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ"، قَالَ: قُلْتُ: فَكَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ؟، قَالَ:"خُذْ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَانْضَحْهُ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے مذی کی سخت شکایت تھی، جس کی وجہ سے میں اکثر غسل کیا کرتا تھا، لہٰذا میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا اور اس بارے میں آپ سے (حکم) دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لئے (اس صورت میں) وضو کر لینا کافی ہو گا۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: اور جو میرے کپڑوں پر لگ گئی اس کا کیا کروں؟ فرمایا: پانی کا ایک چلو بھر کر جہاں مذی لگ گئی ہے اس پر چھڑک دو۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 746]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 750] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 91/1] ، [صحيح ابن خزيمه 291] ، [أبوداؤد 210] ، [ترمذي 115] ، [ابن ماجة 506] ، [صحيح ابن حبان 1102] ، [موارد الظمآن 241]
وضاحت
(تشریح حدیث 745)
مذی سفید چکنا پانی ہے جو ملاعبت یا بوس و کنار سے آ جاتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مذی سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور وہ ناپاک ہے، دھو لینا چاہئے۔
الحكم: إسناده صحيح