بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
موزوں پر مسح کرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل موزوں پر مسح کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 736 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، زَكَرِيَّا هُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَامِرٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا هُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: "أَمَعَكَ مَاءٌ؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ،"فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَمَشَى حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فِي سَوَادِ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَ فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ مِنْ الْإِدَاوَةِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا حَتَّى أَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ، فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ، فَقَالَ: دَعْهُمَا، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ، فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک رات سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ سواری پر سے اترے اور چلے، یہاں تک کہ اندھیری رات میں مجھ سے اوجھل ہو گئے، پھر لوٹ کر آئے تو میں نے ڈولچی سے پانی ڈالا، پس آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اور منہ دھویا، آپ اون کا جبہ پہنے ہوئے تھے تو ہاتھ آستیوں سے نہ نکال سکے، آپ نے نیچے سے ہاتھوں کو باہر نکالا، پھر کہنیوں کو دھویا، اور سر پر مسح کیا، پھر میں آپ کے موزے اتارنے کو جھکا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہیں رہنے دو، میں نے ان کو طہارت کی حالت میں پہنا ہے۔ پس آپ نے ان (دونوں موزوں) پر مسح کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 736]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 740] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 182، 206] ، [مسلم 274] ، [أبوداؤد 149] ، [نسائي 79] ، [ابن ماجه 545] ، [ابن حبان 1347] ، [الحميدي 775]
وضاحت
(تشریح حدیث 735)
وضو کے بعد طہارت کی حالت میں پہنے ہوئے موزوں پر جب کہ وہ زیادہ پتلے اور پھٹے نہ ہوں مسح کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ثابت ہے، اور تقریباً 80 صحابہ کرام نے اس کو روایت کیا ہے لہٰذا متواتر ہے، اور اس مسح کا انکار حدیث کا انکار ہے۔
الحكم: إسناده صحيح