بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
وضو کے بعد تولیہ (یا رومال) استعمال کرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل وضو کے بعد تولیہ (یا رومال) استعمال کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 735 سنن دارمی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، مَيْمُونَةَ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَأَلْتُ مَيْمُونَةَ خَالَتِي عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجَنَابَةِ، فَقَالَتْ: كَانَ "يُؤْتَى بِالْإِنَاءِ فَيُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ، فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَسَائِرَ جَسَدِهِ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ فَيَغْسِلُ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْمِنْدِيلِ فَيَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيَنْفُضُ أَصَابِعَهُ وَلَا يَمَسُّهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غسل جنابت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا: پانی کا برتن لایا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے، پھر شرم گاه اور جہاں گندگی لگی ہوتی اس کو دھوتے، پھر جیسا نماز کے لئے وضو کرتے ہیں، اسی طرح وضو کرتے، پھر اپنے سر اور سارے جسم کو دھوتے، پھر اس جگہ سے ہٹ کر اپنے دونوں پیر دھوتے، پھر تولیہ لائی جاتی تو آپ اسے اپنے سامنے رکھ لیتے، اور اپنی انگلیوں سے ہی پانی جھاڑتے اور اس (تولیہ) کو ہاتھ نہ لگاتے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 735]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن أبي ليلى لكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 739] »
اس روایت کی یہ سند ضعیف، لیکن دوسری سند سے یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 249، 620] ، [مسلم 317] ، [أبوداؤد 245] ، [ترمذي 103] ، [نسائي 253] ، [ابن ماجه 467] ، [أبويعلی 7101] ، [ابن حبان 1190] ، [الحميدي 318]
وضاحت
(تشریح حدیث 734)
بعض روایات میں رومال یا تولیہ سے منہ ہاتھ اور بدن پونچھنے کا بھی ذکر ہے اس لئے پونچھنا یا خشک کرنا بھی مکروہ نہیں ہے۔
والله اعلم
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن أبي ليلى لكن الحديث متفق عليه