بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر کے مسح کے لئے نیا پانی لیتے تھے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر کے مسح کے لئے نیا پانی لیتے تھے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 732 سنن دارمی
يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَبَّانُ بْنُ وَاسِعٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيِّ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ وَاسِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَتَوَضَّأُ بِالْجُحْفَةِ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدَيْهِ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يُرِيدُ بِهِ تَفْسِيرَ مَسْحِ الْأَوَّلِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا، پس آپ نے کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر دونوں ہاتھ (کہنیوں تک) تین بار دھوئے، پھر سر کا مسح کیا، اور اپنے دونوں پیروں کو دھویا یہاں تک کہ ان کو صاف کر لیا، اور سر کا مسح ہاتھ میں بچے پانی کے بجائے نئے پانی سے کیا۔ ابومحمد نے فرمایا: آخری جملے سے، پہلے مسح کی تفسیر مقصود ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 732]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه ابن لهيعة، [مكتبه الشامله نمبر: 736] »
اس سند سے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اس کی اصل [صحيح مسلم 236] ، [أبوداؤد 120] ، [ترمذي 35] میں موجود ہے، اور امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔ نیز بعض نسخ میں عبداللہ بن زید المازني عن عمہ عاصم ہے، اور بعض نسخوں میں عبداللہ بن زید بن عاصم المازنی ہے اور یہی صحیح ہے۔ واللہ اعلم
الحكم: إسناده ضعيف فيه ابن لهيعة