بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نماز کی کنجی طہارت ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل نماز کی کنجی طہارت ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 710 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَلِيٍّ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا على رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نماز کی کنجی طہارت ہے، اورتحریم اس کی تکبیر ہے، اور تحلیل اس کی سلام ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 710]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 714] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 61] ، [ترمذي 3] ، [ابن ماجه 275] ، [مسند أبى يعلی 616]
وضاحت
(تشریح حدیث 709)
یعنی تکبیرِ تحریمہ کے بعد جتنے افعال نماز کے منافی تھے وہ نا درست ہو گئے اور سلام پھیرنے کے بعد تمام افعال درست ہو گئے۔
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 711 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَبُو رَيْحَانَةَ ، سَفِينَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَبُو رَيْحَانَةَ، عَنْ سَفِينَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مُد سے وضو کرتے اور ایک صاع سے غسل کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 711]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 715] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 53، 356] ، [ابن ماجه 267] ، [ترمذي 56، 267] ، [المصنف 65/1] ، [أحمد 222/5] ، [أبوعوانه 232/1] ، [ابن الجارود 62]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 712 سنن دارمی
أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، شُعْبَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، أَنَسًا
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَتَوَضَّأُ بِالْمَكُّوكِ، وَيَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَكَاكِي".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن عبداللہ نے کہا: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مکوک سے وضو کرتے اور پانچ مکوک سے غسل فرماتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 712]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 716] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 201] ، [مسلم 325] ، [أبوداؤد 95] ، [ترمذي 609] ، [نسائي 73]
وضاحت
(تشریح احادیث 710 سے 712)
مکوک مد کو کہتے ہیں اور مد و صاع ناپ کے پیمانے ہیں، ایک صاع تقریباً ڈھائی کلوگرام کا ہوتا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ وضو اور غسل میں پانی کے اسراف سے بچنا چاہئے۔
الحكم: إسناده صحيح