بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قضائے حاجت کے وقت پردہ پوشی کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل قضائے حاجت کے وقت پردہ پوشی کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 685 سنن دارمی
أَبُو عَاصِمٍ ، ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، حُصَيْنٌ الْحِمْيَرِيُّ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخَيْرُ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ الْحِمْيَرِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخَيْرُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ، فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا، فَلَا حَرَجَ، مَنْ اسْتَجْمَرَ، فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ، فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا، فَلَا حَرَجَ، مَنْ أَكَلَ فَلْيَتَخَلَّلْ، فَمَا تَخَلَّلَ، فَلْيَلْفِظْ، وَمَا لَاكَ بِلِسَانِهِ، فَلْيَبْتَلِعْ، مَنْ أَتَى الْغَائِطَ، فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا كَثِيبَ رَمْلٍ، فَلْيَسْتَدْبِرْهُ، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ يَتَلَاعَبُونَ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ، مَنْ فَعَلَ، فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا، فَلَا حَرَجَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو سرمہ لگائے تو طاق بار لگائے، جو کرے تو بہتر ہے نہ کرے تو کوئی حرج نہیں، اور جو ڈھیلے سے استنجا کرے تو طاق بار کرے، جو کرے تو بہتر ہے نہ کرے تو کوئی حرج نہیں، اور جو شخص کھانا کھائے تو خلال کرے، پھر خلال سے کچھ نکلے تو اسے پھینک دے، اور جو زبان سے لگا رہے اسے نگل جائے، جو ایسا کرے تو بہتر ہے نہ کرے تو کوئی حرج نہیں، اور جو شخص پائخانہ کو جائے تو آڑ میں ہو جائے، اگر کچھ بھی آڑ نہ ہو ریت کے ایک ڈھیر کے سوا تو اس کی آڑ میں بیٹھ جائے اس لئے کہ شیاطین آدمی کی شرم گاہ سے کھیلتے ہیں، جو شخص ایسا کرے گا تو بہتر، نہ کرے تو کوئی حرج نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 685]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 689] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [صحيح ابن حبان 1410] ، [موارد الظمآن 132] ، [العلل للدارقطني 1570] و [مشكل الآثار 41/1] ۔ نیز دیکھئے: [أبوداؤد 25] و [ابن ماجه 327]
حدیث نمبر: 686 سنن دارمی
حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، مَهْدِيٌّ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ "هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حاجت کے وقت ٹیلے یا کھجور کے درختوں کی آڑ بہت پسند تھی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 686]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 690] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [صحيح مسلم 342] و [مسند أبويعلی 6787] و [البيهقي 94/1] ، نیز دیکھئے حدیث رقم (783)۔
وضاحت
(تشریح احادیث 682 سے 686)
ان احادیث شریفہ میں سرمہ لگانے، ڈھیلے سے استنجاء کرنے اور دانتوں کا خلال کرنے کی اجازت اور قضائے حاجت پردے اور آڑ میں کرنے کا حکم ہے، نیز شیطان کے تلاعب سے بچنے کی تلقین ہے۔
الحكم: إسناده صحيح