بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 762 — پیشاب سے بچنے کا بیان
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل پیشاب سے بچنے کا بیان حدیث 762
الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، الْأَعْمَشُ ، مُجَاهِدٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ، فَقَالَ: "إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ: كَانَ أَحَدُهُمَا يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، وَكَانَ الْآخَرُ لَا يَسْتَنْزِهُ عَنْ الْبَوْلِ، أَوْ مِنْ الْبَوْلِ"، قَالَ:"ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَكَسَرَهَا، فَغَرَزَ عِنْدَ رَأْسِ كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا قِطْعَةً"، ثُمَّ قَالَ:"عَسَى أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا حَتَّى تَيْبَسَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ان دونوں پر ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے گناہ پر نہیں، ان میں سے ایک تو چغل خوری کرتا پھرتا تھا، اور دوسرا پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا۔ راوی نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ہری ٹہنی لی، اس کو چیرا اور ہر قبر کے سرہانے ایک ٹکڑا گاڑھ دیا، پھر فرمایا: شاید جب تک یہ ٹہنیاں نہ سوکھیں اس وقت تک ان کا عذاب ہلکا کر دیا جائے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 762]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 766] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے، اور اصحاب السنن نے بھی اسے ذکر کیا ہے۔ دیکھئے: [بخاري 218] ، [مسلم 292] ، [أبوداؤد 20] ، [ترمذي 70] ، [نسائي 31] ، [ابن ماجه 347] ، [أبويعلی 2050] ، [ابن حبان 3128]
وضاحت
(تشریح حدیث 761)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چغل خوری اور پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا گناہِ کبیرہ ہے جس کی وجہ سے قبر میں عذاب دیا جائے گا، ہری ٹہنی لگانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ خاص تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ ان کا عذاب ہلکا کر دیا جائے جس کو الله تعالیٰ نے قبول فرمایا، کسی اور کے لئے ایسا کرنا جائز نہیں کیوں کہ یہ امر غیبی ہے، کسی کو کیا معلوم قبر کے اندر کیا ہو رہا ہے، نیز اندازاً ایسا کرنا صاحبِ قبر کے ساتھ بدگمانی کرنا ہے کہ اس کو عذاب ہو رہا ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (761) باب پر واپس اگلی حدیث (763) →