بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 753 — ٹھہرے ہوئے پانی سے وضو کرنے کا بیان
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل ٹھہرے ہوئے پانی سے وضو کرنے کا بیان حدیث 753
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، زَائِدَةُ ، هِشَامٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يَبُولُ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی تھمے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے غسل کرے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 753]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 757] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 239] ، [مسلم 282] ، [أبويعلی 6076] ، [ابن حبان 1251] ، [الحميدي 999]
وضاحت
(تشریح حدیث 752)
اس حدیث میں ایک جگہ رُکے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرنے کا حکم ہے اور باب ہے ایسے پانی سے وضو کرنے کا، توافق کی صورت یہ ہے کہ اگر ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کیا گیا تو اس سے وضو نہیں کر سکتے جیسا کہ «ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيْهِ» سے واضح ہوتا ہے، یعنی انسان پینے، وضو اور غسل کے لئے اس پانی کا محتاج ہو سکتا ہے لیکن جب اس کو پیشاب سے نجس کر دیا تو ایسا پانی استعمال میں نہیں لایا جا سکتا ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (752) باب پر واپس اگلی حدیث (754) →