أَبُو الْوَلِيدِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً، وَجَمَعَ بَيْنَ الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اعضائے وضوء کو ایک ایک بار دھویا، اور کلی و استنشاق ایک چلو سے کئے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 720]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 724] »
دیکھئے: تخریج سابق و [ابن حبان 1076] ، [حاكم 150/1] ، [البيهقي 50/1] و [ابن الجارود 69]
وضاحت
(تشریح احادیث 718 سے 720)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھویا جائے تب بھی وضو ہو جاتا ہے۔
اور استنشاق سے مراد ناک میں پانی چڑھانا اور ناک کو جھاڑنا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح