مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِهِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يَعْنِي: السِّوَاكَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میری امت پر مشکل نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے وقت اس کا (مسواک کرنے کا) حکم دیتا۔“
امام دارمی ابومحمد نے فرمایا: «لأَمَرْتُهُمْ بِهِ» کا مرجع مسواک ہے۔ (صحیحین میں ضمیر کے بجائے السواک ہی مذکور ہے۔ مترجم) [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 706]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 710] »
یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 887] ، [مسلم 252] ، [مسند أبى يعلی 6270] ، [صحيح ابن حبان 1068]
وضاحت
(تشریح احادیث 703 سے 706)
ان احادیثِ شریفہ سے مسواک کرنے کی اہمیت و فضیلت ثابت ہوتی ہے، نیز یہ کہ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اپنی اُمّت سے محبت و شفقت معلوم ہوئی کہ مشقت میں نہ پڑ جائیں، اس خوف سے مسواک کرنے کا حکم دینے سے احتراز کیا کہ ہر نماز کے وقت مسواک کرنا لازم و واجب نہ ہو جائے۔
الحكم: إسناده صحيح