بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 679 — طہارت (پاکیزگی) کا بیان
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل طہارت (پاکیزگی) کا بیان حدیث 679
يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، ابْنُ ثَوْبَانَ ، حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، أَبَا كَبْشَةَ السَّلُولِيّ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، أَنَّ أَبَا كَبْشَةَ السَّلُولِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "سَدِّدُوا، وَقَارِبُوا، وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةُ، وَلَنْ يُحَافِظَ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوکبشہ سلولی نے بیان کیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: متوسط طریقہ اختیار کرو اور صواب کے قریب ہوتے جاؤ۔ اور تمہارے اعمال میں سب سے بہتر نماز ہے، اور وضو پر سوائے مومن کے اور کوئی محافظت نہیں کرتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 679]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 682] »
اس حدیث کی سند حسن ہے، لیکن حدیث صحیح ہے، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔ نیز دیکھئے: [المسند 282/5] ، [ابن حبان 1037] ، [المعجم الكبير 101/2، 1444]
وضاحت
(تشریح حدیث 678)
ان احادیث میں وضو اور طہارت کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ یہ مومن بندوں کی صفات میں سے ہے کہ وہ طہارت کا خیال رکھتے ہیں اور باوضو رہتے ہیں۔
اور پچھلی احادیث میں وضو اور طہارت کو ایمان کے نصف حصے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔
← پچھلی حدیث (678) باب پر واپس اگلی حدیث (680) →