حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ مجاهدٌ، قَالَ: إِنَّمَا دَعَوْنَاكَ أَنَّا أَرَدْنَا أَنْ نَخْتِمَ الْقُرْآنَ، وَإِنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ الدُّعَاءَ يُسْتَجَابُ عِنْدَ خَتْمِ الْقُرْآنِ، قَالَ: فَدَعَوْا بِدَعَوَاتٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: میرے پاس بلاوا آیا اور کہا کہ ہم آپ کو ختم قرآن میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں، کیوں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ ختم قرآن کے وقت دعا قبول ہوتی ہے، اور انہوں نے دعائیں کیں۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3514]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3525] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ حکم: ابن عتبہ ہیں۔ دیکھئے: [ابن الضريس فى فضائل القرآن 49، 81] ، [أبوعبيد، ص: 107] ، [ابن أبى شيبه 10089] ، [شعب الإيمان 2072]
الحكم: إسناده صحيح