الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَرِيزٌ ، حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَبَا أُمَامَةَ
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَنْبَأَنَا حَرِيزٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: "مَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ، كُتِبَ لَهُ قِنْطَارٌ مِنْ الْأَجْرِ. وَالْقِيرَاطُ مِنْ ذَلِكَ الْقِنْطَارِ لَا تَفِي بِهِ دُنْيَاكُمْ، يَقُولُ: لَا يَعْدِلُهُ دُنْيَاكُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حبیب بن عبید نے کہا: میں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے: جس نے ایک ہزار آیات پڑھیں اس کے لئے ایک قنطار اجر و ثواب لکھ دیا گیا، اور وہ قیراط تمہاری اس دنیا کے قیراط سے بڑھ کر ہے، یعنی: دنیا کے قیراط سے اس کا کوئی مقابلہ و برابری نہیں ہو سکتی۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3493]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3504] »
اس اثر موقوف کی سند صحیح ہے۔ اسی کے مثل روایات مع تخریج اوپر گذر چکی ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح