الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَبَا أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَنْبَأَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: "مَنْ قَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ، لَمْ يُكْتَبْ مِنْ الْغَافِلِينَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حبیب بن عبید نے کہا: میں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے: جس نے سو آیات پڑھیں وہ غافلین میں نہیں لکھا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3486]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو موقوف على أبي أمامة، [مكتبه الشامله نمبر: 3497] »
اس اثر موقوف کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الطبراني فى الكبير 211/8، 7748]
وضاحت
(تشریح احادیث 3482 سے 3486)
یہ تمام آثار و اقوال ہیں، اس میں شک نہیں کہ رات میں قرآن پاک پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے، اور قرآن پاک جس وقت بھی جتنا بھی پڑھا جائے باعثِ خیر و برکت ہے۔
«جعلنا اللّٰه وإياكم من التالين لكتابه» آمین۔
الحكم: إسناده صحيح وهو موقوف على أبي أمامة