عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، أَبَا خَالِدٍ عَامِرَ بْنَ جَشِيبٍ ، وَبَحِيرَ بْنَ سَعْدٍ ، خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا خَالِدٍ عَامِرَ بْنَ جَشِيبٍ، وَبَحِيرَ بْنَ سَعْدٍ، يُحَدِّثَانِ: أَنَّ خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ، قَالَ: "إِنَّ الم {1} تَنْزِيلُ الْكِتَابِ لا رَيْبَ فِيهِ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ {2} سورة السجدة آية 1-2 تُجَادِلُ عَنْ صَاحِبِهَا فِي الْقَبْرِ، تَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ مِنْ كِتَابِكَ، فَشَفِّعْنِي فِيهِ، وَإِنْ لَمْ أَكُنْ مِنْ كِتَابِكَ، فَامْحُنِي عَنْهُ، وَإِنَّهَا تَكُونُ كَالطَّيْرِ تَجْعَلُ جَنَاحَهَا عَلَيْهِ، فَيُشْفَعُ لَهُ، فَتَمْنَعُهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِي (تَبَارَكَ) مِثْلَهُ"، فَكَانَ خَالِدٌ لَا يَبِيتُ حَتَّى يَقْرَأَ بِهِمَا.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
خالد بن معدان نے کہا: بیشک (سورہ) «الم تنزيل» قبر میں اپنے پڑھنے والے کے لئے جھگڑا کرے گی، وہ کہے گی: اے اللہ! اگر میں تیری کتاب (قرآن) میں سے ہوں تو اس کے بارے میں میری شفاعت قبول فرما، اور اگر تیری کتاب میں سے نہیں ہوں تو مجھے اس سے مٹا دے، اور وہ پرندے کی طرح ہو گی جو اس کے اوپر سایہ کیے ہو گا، وہ اس (پڑھنے والے) کے لئے شفاعت کرے گی اور اس کو عذاب قبر سے بچا لے گی، اور (سورہ) «تبارك» بھی اسی طرح ہے۔ چنانچہ خالد بن معدان بذات خود ان دونوں سورتوں کو پڑھے بنا سوتے نہیں تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3442]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح وهو موقوف على خالد بن معدان، [مكتبه الشامله نمبر: 3453] »
یہ اثر عبداللہ بن صالح کی وجہ سے ضعیف اور خالد بن معدان پر موقوف ہے۔ دیکھئے [مشكاة 2176] ، [الدر المنثور 171/5] ۔ لیکن آگے یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مروی ہے جو صحیح ہے۔ دیکھئے: «الحديث التالي» ۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح وهو موقوف على خالد بن معدان