حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: "يَجُوزُ بَيْعُ الْمَرِيضِ وَشِرَاؤُهُ وَنِكَاحُهُ، وَلَا يَكُونُ مِنَ الثُّلُثِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عامر (شعبی رحمہ اللہ) سے مروی ہے، انہوں نے کہا: بیمار کی خرید و فروخت اور نکاح کرنا جائز ہے، اور یہ ثلث میں سے نہیں ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3249]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل شريك، [مكتبه الشامله نمبر: 3260] »
اس اثر کی سند شریک کی وجہ سے حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 362/4] ۔ ابوالوليد: الطیالسی، الشيبانی: سلیمان بن ابی سلیمان ہیں۔
وضاحت
(تشریح حدیث 3248)
بیمار کے لئے شرط ہے: وہ وصیت کے وقت عقل اور ہوش و حواس کا حامل ہو، اور جس چیز کی وصیت کر رہا ہو اس کا مالک بھی ہو، اور وصیت کے بعد بیمار خرید و فروخت بھی اور شادی بیاہ بھی کر سکتا ہے، نیز یہ کہ وہ صرف ثلث مال میں سے وصیت کر سکتا ہے اس زیادہ کی نہیں۔
الحكم: إسناده حسن من أجل شريك