سَعِيدٌ ، ابْنِ الْمُبَارَكِ ، مَعْمَرٍ ، قَتَادَةَ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: "مِلَاكُ الْوَصِيَّةِ آخِرُهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آخری وصیت ہی اصل ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3247]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 3258] »
اس حدیث کی سند میں انقطاع ہے۔ دیکھئے: [ابن حزم 341/9] ، و رقم (3245)
وضاحت
(تشریح احادیث 3244 سے 3247)
ان آثار سے ثابت ہوا کہ وصیت میں رد و بدل کرنا جائز ہے، اور جو آخری وصیت ہوگی وہی قابلِ تنفيذ مانی جائے گی، اس سے قبل کی وصیت منسوخ ہو جائے گی۔
الحكم: إسناده منقطع