بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 3229 — ایک تہائی سے کم کی وصیت کرنے کا بیان
کتب سنن دارمی وصیت کے مسائل ایک تہائی سے کم کی وصیت کرنے کا بیان حدیث 3229
حدیث نمبر: 3229 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ:"أَنَّ أَبَاهُ زِيَادَ بْنَ مَطَرٍ أَوْصَى، فَقَالَ: وَصِيَّتِي مَا اتَّفَقَ عَلَيْهِ فُقَهَاءُ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، فَسَأَلْتُ، فَاتَّفَقُوا عَلَى الْخُمُسِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
علاء بن زیاد سے مروی ہے کہ زیاد بن مطر نے وصیت کی کہ میری وصیت وہی ہے جس پر بصرہ کے فقیہ اتفاق کریں، میں نے ان سے پوچھا تو ان فقہاء نے پانچویں حصہ کی وصیت پر اتفاق کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3229]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى زياد بن مطر، [مكتبه الشامله نمبر: 3240] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [سعيد بن منصور 336]
وضاحت
(تشریح حدیث 3228)
فقہائے بصرہ نے خمس پر اس لئے اتفاق کیا کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: «الثلث و الثلث كثير» ، یعنی تہائی مال کی وصیت کر سکتے ہو گرچہ یہ بھی زیادہ ہے، اور ایک روایت میں ہے «الربع» یعنی چوتھائی مال کی وصیت کروں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔
لیکن یہ روایت صحیح نہیں، کما سیأتی۔
الحكم: إسناده صحيح إلى زياد بن مطر
← پچھلی حدیث (3228) باب پر واپس اگلی حدیث (3230) →