بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 3221 — تھوڑے سے مال میں بعض کے نزدیک وصیت کی ضرورت نہیں
کتب سنن دارمی وصیت کے مسائل تھوڑے سے مال میں بعض کے نزدیک وصیت کی ضرورت نہیں حدیث 3221
حدیث نمبر: 3221 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:"دَخَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ يَعُودُهُ، فَقَالَ: أُوصِي؟ قَالَ: لا، لَمْ تَدَعْ مَالًا، فَدَعْ مَالَكَ لِوَلَدِكَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ہشام نے اپنے والد سے روایت کیا: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے کے ایک آدمی کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے تو اس نے کہا: مجھے وصیت کرنی ہو گی؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، تم کوئی مال چھوڑ کر نہیں جا رہے، اپنے (تھوڑے سے) مال کو اپنی اولاد کے لئے رہنے دو۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3221]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3232] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ ابن کناسہ کا نام محمد بن عبداللہ بن عبدالاعلیٰ بن کناسہ ہے، اور ہشام: ابن عروہ ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10992] ، [عبدالرزاق 16351] ، [البيهقي 270/6]
وضاحت
(تشریح احادیث 3219 سے 3221)
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے اس فرمان سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک تھوڑے سے مال میں وصیت کی ضرورت نہیں۔
مال جب بہت زیادہ ہو تب ہی وصیت کرنا چاہیے۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (3220) باب پر واپس اگلی حدیث (3222) →