بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 3210 — وصیت کی فضیلت کا بیان
کتب سنن دارمی وصیت کے مسائل وصیت کی فضیلت کا بیان حدیث 3210
حدیث نمبر: 3210 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ:"قَالَ لِي ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ: مَا فَعَلَ أَبُوكَ؟ قُلْتُ: مَاتَ، قَالَ: فَهَلْ أَوْصَى؟ فَإِنَّهُ كَانَ يُقَالُ: إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ، كَانَتْ وَصِيَّتُهُ تَمَامًا لِمَا ضَيَّعَ مِنْ زَكَاتِهِ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد، وقال غَيْرُهُ: الْقَاسِمُ بْنُ عَمْرٍو.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
قاسم بن عمر سے مروی ہے کہ ثمامہ بن حزن نے مجھ سے کہا: تمہارے والد نے کیا کیا؟ میں نے عرض کیا: وہ تو انتقال کر گئے، انہوں نے کہا: کیا انہوں نے وصیت کی؟ کیوں کہ یہ کہا جاتا تھا جب آدمی وصیت کر جائے تو اس کی وصیت زکاة میں جو اس سے کمی ہوئی اس کو پورا کر دیتی ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: دوسروں نے قاسم بن عمرو کہا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3210]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد إلى ثمامة، [مكتبه الشامله نمبر: 3221] »
اس روایت کی سند ثمامہ تک جید ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 19082] ، [عبدالرزاق 16330] ، [ابن منصور 346]
الحكم: إسناده جيد إلى ثمامة
← پچھلی حدیث (3209) باب پر واپس اگلی حدیث (3211) →