بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 3186 — کیا ولاء میں عورتوں کا بھی حق ہے؟
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان کیا ولاء میں عورتوں کا بھی حق ہے؟ حدیث 3186
حدیث نمبر: 3186 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، ابْنِ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: مَاتَ مَوْلًى لِعُمَرَ، فَسَأَلَ ابْنُ عُمَرَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَقَالَ: هَلْ لِبَنَاتِ عُمَرَ مِنْ مِيرَاثِهِ شَيْءٌ؟ قَالَ: "مَا أَرَى لَهُنَّ شَيْئًا، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُعْطِيَهُنَّ، أَعْطَيْتَهُنَّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
(عبداللہ) ابن عون سے مروی ہے، محمد (ابن سیرین رحمہ اللہ) نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا آزاد کردہ غلام فوت ہو گیا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی لڑکیوں کے لئے میراث میں سے کچھ ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: میری رائے میں تو ان کے لئے کچھ نہیں ہے، اگر تم دینا چاہو تو انہیں کچھ دے سکتے ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3186]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى محمد بن سرين، [مكتبه الشامله نمبر: 3197] »
اس روایت کی سند محمد بن سیرین تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 15776]
الحكم: إسناده صحيح إلى محمد بن سرين
← پچھلی حدیث (3185) باب پر واپس اگلی حدیث (3187) →