بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 3095 — ذوی الارحام کی میراث کا بیان
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان ذوی الارحام کی میراث کا بیان حدیث 3095
حدیث نمبر: 3095 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو نُعَيْمٍ ، أَبُو هَانِئٍ ، عَامِرٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ، قَالَ: سُئِلَ عَامِرٌ عَنْ امْرَأَةٍ أَوْ رَجُلٍ، تُوُفِّيَ وَتَرَكَ خَالَةً وَعَمَّةً، قَالَ:"لَيْسَ لَهُ وَارِثٌ وَلَا رَحِمٌ غَيْرُهُمَا"، فَقَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُنَزِّلُ الْخَالَةَ بِمَنْزِلَةِ أُمِّهِ، وَيُنَزِّلُ الْعَمَّةَ بِمَنْزِلَةِ أَخِيهَا.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوہانی نے کہا: عامر شعبی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کوئی عورت یا مرد وفات پا گیا، اور اس نے خالہ اور پھوپھی کو چھوڑا، اور ان دونوں کے علاوہ ان کا کوئی اور وارث یا رشتہ دار نہ تھا، شعبی رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خالہ کو ماں کی جگہ اور پھوپھی کو اس کے بھائی یعنی مرنے والی عورت کے بھائی کا حصہ دیتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3095]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف أبو هانئ: عمر بن بشير ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3104] »
اس روایت کی سند میں ابوہانی عمر بن بشیر ضعیف ہیں۔ اس کا حوال (3014) پر گذر چکا ہے۔ نیز دیکھئے: [مجمع الزوائد 5371]
وضاحت
(تشریح احادیث 3082 سے 3095)
ان تمام آثار و احادیث سے معلوم ہوا اکثر صحابہ و تابعین کے نزدیک حقیقی وارث کی غیر موجودگی میں ماموں، پھوپھی، خالہ، بھتیجی اور بھانجی وغیرہ مرنے والے کے وارث ہوں گے، جمہور علمائے کرام اور فقہاء کا یہی مذہب ہے اور یہ ہی راجح ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف أبو هانئ: عمر بن بشير ضعيف
← پچھلی حدیث (3094) باب پر واپس اگلی حدیث (3096) →