بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 3081 — پانی میں ڈوبنے والوں کی میراث کا بیان
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان پانی میں ڈوبنے والوں کی میراث کا بیان حدیث 3081
حدیث نمبر: 3081 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، حُرَيْسٍ ، أَبِيهِ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُرَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ:"أَنَّهُ وَرَّثَ أَخَوَيْنِ قُتِلَا بِصِفِّينَ، أَحَدَهُمَا مِنْ الْآخَرِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوحریش نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دو بھائیوں کو جو جنگ صفین میں وفات پا گئے تھے، ایک دوسرے کا وارث قرار دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3081]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف أبو حريس ما وجدت له ترجمة وباقي رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 3091] »
اس روایت میں ابوحریش مجہول ہیں، باقی رجال ثقات ہیں۔ دیکھے: [البخاري فى الكبير 132/3] ، [ابن أبى شيبه 11391] ، [عبدالرزاق 19152]
وضاحت
(تشریح احادیث 3079 سے 3081)
اوپر تفصیل گذر چکی ہے کہ جن کی موت کسی حادثے میں ہوئی ہو اور تقدیم و تأخیر کا علم نہ ہو تو مرنے والے ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے، اور وارثین ہی کے درمیان میراث ہوگی، سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے مذکورہ آ ثار کی سند ان تک صحیح نہیں ہے، اور اگر صحیح مان بھی لی جائے تو کہا جائے گا کہ ان کو شاید مرنے والوں کی موت میں تقدیم و تأخیر کا علم تھا اس لئے انہوں نے ایک دوسرے کو وارث قرار دیا۔
والله اعلم۔
الحكم: إسناده ضعيف أبو حريس ما وجدت له ترجمة وباقي رجاله ثقات
← پچھلی حدیث (3080) باب پر واپس اگلی حدیث (3082) →