بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 3018 — عصبہ کا بیان
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان عصبہ کا بیان حدیث 3018
حدیث نمبر: 3018 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ ، شُعْبَةُ ، النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، لِابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ:"أَرَأَيْتَ رَجُلًا تَرَكَ ابْنَ ابْنَتِهِ، أَيَرِثُهُ؟ قَالَ: لا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
نعمان بن سالم نے کہا: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ ایک آدمی اپنا نواسہ چھوڑ کر مر گیا، کیا وہ اس مرنے والے کا وارث ہو گا؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: نہیں (کیونکہ نواسہ وارث نہیں تو عصبہ ہو کر بھی وہ ترکہ نہ لے گا)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3018]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى ابن عمر وهو موقوف عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 3028] »
یہ اثر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پرموقوف ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2094] ، [ابن ماجه 2739] ، [ابن أبى شيبه 11245]
الحكم: إسناده صحيح إلى ابن عمر وهو موقوف عليه
← پچھلی حدیث (3017) باب پر واپس اگلی حدیث (3019) →