بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 3008 — کلالہ کا بیان
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان کلالہ کا بیان حدیث 3008
حدیث نمبر: 3008 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدٌ ، سُفْيَانُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، سَعْدٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعْدٍ:"أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ: وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلالَةً أَو امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ سورة النساء آية 12 لِأُمٍّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید (بعض روایات میں سعد) سے مروی ہے کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی: «وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ . . . . . .» ‏‏‏‏ [نساء: 12/4] یعنی: جن کی میراث لی جاتی ہے وہ مرد یا عورت کلالہ ہو (یعنی اس کا باپ اور بیٹا نہ ہو) اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے، یہ آیت ہے لیکن اس کو سعید نے «فله أخ أو أخت لأم» پڑھا ہے، یعنی بھائی اور مادری بہن چھوڑے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3008]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «ما بين حاصرتين زيادة من الطبري إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3018] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11650] ، [ابن منصور 592] ، [طبري 287/4] ، [البيهقي 231/6] ۔ «باب فرض الأخوة والأخوات لأم» مقصد یہ ہے کہ آیت مذکورہ میں بھائی اور بہن سے مراد اخیافی بھائی اور بہن (مادری بہن بھائی ہیں) اور حقیقی بہن کا حصہ نصف ہے۔ «كما فى آخر آية من سورة النساء والله اعلم»
الحكم: ما بين حاصرتين زيادة من الطبري إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (3007) باب پر واپس اگلی حدیث (3009) →