بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2951 — دادا کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی رائے کا بیان
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان دادا کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی رائے کا بیان حدیث 2951
حدیث نمبر: 2951 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، الشَّيْبَانِيِّ ، الشَّعْبِيِّ ، عَلِيٌّ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى عَلِيّ وَابْنُ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ: إِنِّي أُتِيتُ بِجَدٍّ وَسِتَّةِ إِخْوَةٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَلِيٌّ: "أَنْ أَعْطِ الْجَدَّ سُدسا، وَلَا تُعْطِهِ أَحَدًا بَعْدَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جب بصرہ میں تھے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مجھ سے دادا اور چھ بھائیوں کا مسئلہ پوچھا گیا ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا کہ دادا کو سدس (چھٹاحصہ) دیدو اور اس کے بعد کسی کو نہ دینا۔
(یعنی سدس دادا کے لئے باقی خمسہ اسداس بھائیوں کے لئے ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2951]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد والشيباني. هو: أبو إسحاق سليمان بن أبي سليمان، [مكتبه الشامله نمبر: 2960] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ شیبانی کا نام ابواسحاق سلیمان بن ابی سلیمان ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11269] ، [البيهقي 249/6] ، [المحلی 284/9] ، [فتح الباري 21/12] ۔ بیہقی کی سند میں قیس بن الربيع ضعیف ہیں۔
الحكم: إسناده جيد والشيباني. هو: أبو إسحاق سليمان بن أبي سليمان
← پچھلی حدیث (2950) باب پر واپس اگلی حدیث (2952) →