بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2929 — بھائی، بہن، بیٹے اور پوتے کا بیان
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان بھائی، بہن، بیٹے اور پوتے کا بیان حدیث 2929
حدیث نمبر: 2929 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدٌ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، مَسْرُوقٍ ، زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ: أَنَّهُ كَانَ يُشَرِّكُ فَقَالَ لَهُ عَلْقَمَةُ: هَلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَثْبَتُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، وَأَهْلَ الْمَدِينَةِ "يُشَرِّكُونَ فِي ابْنَتَيْنِ وَبِنْتِ ابْن، ٍوَابْنِ ابْن، وَأُخْتَيْنِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مسروق رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ وہ بیٹی، پوتی اور دو بہنوں کو وراثت میں شریک کرتے تھے تو علقمہ نے ان سے کہا کہ ایسا کہنے والوں میں کوئی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے زیادہ (پختہ علم والے) تھے؟ مسروق رحمہ اللہ نے کہا: نہیں، لیکن میں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور اہلِ مدینہ کو دیکھا کہ وہ ان کو شریک کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2929]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2937] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، اور یہ مسئلہ رقم (2927) میں گذر چکا ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11129، 11130] ، [عبدالرزاق 19013] ، [ابن منصور 18] ، [المحلی لابن حزم 239/9]
وضاحت
(تشریح حدیث 2928)
اس قول کے مطابق بیٹیاں اور بہنیں دو ثلث، اور پوتی و پوتے ایک ثلث میں للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت تقسیم ہوگی۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (2928) باب پر واپس اگلی حدیث (2930) →