بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2922 — دو چچا زاد جن میں سے ایک شوہر یا ایک اخیافی بھائی ہو اس کا حصہ
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان دو چچا زاد جن میں سے ایک شوہر یا ایک اخیافی بھائی ہو اس کا حصہ حدیث 2922
حدیث نمبر: 2922 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو نُعَيْمٍ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عَلِيٌّ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، قَالَ: أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ فِي فَرِيضَةِ بَنِي عَمٍّ، أَحَدُهُمْ أَخٌ لِأُمٍّ، فَقَالَ: الْمَالُ أَجْمَعُ لِأَخِيهِ لِأُمِّه، فَأَنْزَلَهُ بِحِسَابِ، أَوْ بِمَنْزِلَةِ الْأَخِ مِنْ الْأَبِ وَالْأُمِّ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ، سَأَلْتُهُ عَنْهَا، وَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ:"يَرْحَمُهُ اللَّهُ، إِنْ كَانَ لَفَقِيهًا، أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَكُنْ لِأَزِيدَهُ عَلَى مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ: سَهْمٌ السُّدُسُ، ثُمَّ يُقَاسِمُهُمْ كَرَجُلٍ مِنْهُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حارث الاعور نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بنو عم (چچا زادوں کا) مسئلہ آیا جن میں سے ایک مادری بھائی تھا، انہوں نے کہا: سارا مال اخیافی (مادری) بھائی کا ہوگا، گویا انہوں نے مادری بھائی حساب کے یا حقیقی بھائی کے درجے میں رکھا، پھر جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میں نے یہ مسئلہ ان کے سامنے پیش کیا اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فیصلہ انہیں بتایا تو انہوں نے کہا: اللہ ان پر رحم کرے وہ تو سمجھدار (فقیہ) تھے، لیکن میں جتنا اس صورت میں الله تعالیٰ نے فرض کیا ہے اس پر زیادہ نہ دوں گا، اس کے لئے سدس (چھاحصہ)، پھر ان میں سے ہی ایک آدمی کی طرح تقسیم ہوگی (تفصیل نیچے تشریح میں دیکھئے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2922]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن الحارث بن عبد الله الأعور فصلنا القول فيه عند الحديث (1154) في " موارد الظمآن "، [مكتبه الشامله نمبر: 2930] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ حارث بن عبداللہ الاعور میں کلام ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11134] ، [عبدالرزاق 19133] ، [ابن منصور 128] ، [دارقطني 87/4] ، [البيهقي 240/6]
الحكم: إسناده حسن الحارث بن عبد الله الأعور فصلنا القول فيه عند الحديث (1154) في " موارد الظمآن "
← پچھلی حدیث (2921) باب پر واپس اگلی حدیث (2923) →