بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2905 — شوہر کے ساتھ ماں باپ، اور بیوی کے ساتھ ماں باپ کے حصے کا بیان
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان شوہر کے ساتھ ماں باپ، اور بیوی کے ساتھ ماں باپ کے حصے کا بیان حدیث 2905
حدیث نمبر: 2905 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، عَلِيٍّ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ: فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ، قَالَ: "مِنْ أَرْبَعَةٍ: لِلْمَرْأَةِ الرُّبُعُ، وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِي، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأَبِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عامر الشعبی سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیوی اور ماں باپ کے حق وراثت کے بارے میں کہا: بیوی کے لئے کل مال کے چار میں سے چوتھا حصہ اور جو بچے اس کا ایک تہائی ماں کے لئے، اس سے جو بچا وہ باپ کا حصہ ہے۔ (یعنی: بیوی کا 1۔ ماں کا 1۔ اور باپ کو دو ملیں گے «كما مر آنفا») [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2905]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، [مكتبه الشامله نمبر: 2913] »
اس روایت کی سند میں محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلی ضعیف ہیں، اور شعبی نے بھی امیر المومنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے سنا نہیں، لیکن مذکورہ بالا طرق وآ ثار کی اس سے تائید ہوتی ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 15] ، [ابن أبى شيبه 11099]
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى
← پچھلی حدیث (2904) باب پر واپس اگلی حدیث (2906) →