بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2846 — موت کے ذبح کئے جانے کا بیان
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان موت کے ذبح کئے جانے کا بیان حدیث 2846
حدیث نمبر: 2846 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَاصِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "يُؤْتَى بِالْمَوْتِ بِكَبْشٍ أَغْبَرَ، فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَيُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ، وَيُقَالُ: يَا أَهْلَ النَّارِ، فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ، وَيَرَوْنَ أَنْ قَدْ جَاءَ الْفَرَجُ، فَيُذْبَحُ وَيُقَالُ: خُلُودٌ لَا مَوْتَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن موت کو خاکی رنگ کے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت و جہنم کے درمیان اسے کھڑا کر دیا جائے گا، پھر پکارا جائے گا: اے جنت والو! تو وہ اونچی گردن کر کے دیکھنے لگیں گے، پھر کہا جائے گا: اسے جہنم کے مکینوں! چنانچہ وہ بھی گردنیں اونچی کر کے دیکھیں گے اور سمجھیں گے کہ اب چھٹکارے کا وقت آ گیا، اس وقت (اس مینڈھے یعنی موت) کو ذبح کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا: اب ہمیشہ زندہ رہنا ہے، موت نہیں آئے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2846]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2853] »
اس روایت کی سند حسن ہے، لیکن حدیث کی اصل صحیحین میں موجود ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6548] ، [مسلم 2850] ۔ اور وہاں یہ اضافہ بھی ہے کہ موت کو ذبح کر دیئے جانے کے بعد جنتی لوگوں کی خوشی و مسرت میں اور اضافہ ہوگا اور جہنمیوں کے حزن و ملال میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ مذکورہ حدیث کے حوالہ کے لئے دیکھئے: [أبويعلي 1175] ، [ابن حبان 7450] ، [الموارد 2615]
وضاحت
(تشریح حدیث 2845)
موت کا مینڈھے کی صورت میں لایا جانا اور اس کا ذبح کیا جانا اس حدیث سے ثابت ہوا، جس پر ایمان واجب ہے، اور اسی لئے قرآن پاک میں کہا گیا: «﴿وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ﴾ [العنكبوت: 64] » نیز اہلِ جنت و جہنم میں جانے والوں کے لئے جگہ جگہ «خَالِدِيْنَ فِيْهَا» آیا ہے جس سے ہمیشہ کی زندگی مراد ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده حسن
← پچھلی حدیث (2845) باب پر واپس اگلی حدیث (2847) →