مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، شُعْبَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، كُرْدُوسًا ، عَلِيٌّ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قالَ: سَمِعْتُ كُرْدُوسًا وَكَانَ قَاصًّا، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "لَأَنْ أَقْعُدَ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ". قَالَ: قُلْتُ: أَنَا: أَيَّ مَجْلِسٍ يَعْنِي؟، قَالَ: كَانَ حِينَئِذٍ يَقُصُّ. قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ هُوَ: عَلِيٌّ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالملک بن میسرہ نے کہا: میں نے کردوس سے سنا جو قصہ گو تھا کہ اہلِ بدر کے ایک شخص نے مجھے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے: ”اگر میں اس جیسی مجلس میں بیٹھوں تو میرے نزدیک زیادہ اچھا ہے کہ چار غلام آزاد کر دوں“، راوی نے کہا: میں نے پوچھا کون سی مجلس اس سے مراد تھی؟ کہا: اس مجلس میں اس وقت قصہ خوانی ہو رہی تھی۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: اہلِ بدر کے مذکورہ صحابی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2815]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2822] »
اس حدیث کی سند جید ہے۔ تخریج کے لئے دیکھئے: [مجمع الزوائد 925 بتحقيق حسين سليم الداراني]
وضاحت
(تشریح حدیث 2814)
اس حدیث میں حکایات و قصے سننے سے کراہت تو ہے لیکن ممانعت نہیں ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام یا تابعین و اسلاف کرام کے سچے واقعات اگر وعظ و تقریر میں بیان کر دیئے جائیں تو کوئی حرج نہیں، لیکن واقعات سچے ہوں من گھڑت نہ ہوں۔
قرآن پاک میں انبیاء و رسل کے قصے ہیں، اصحابِ کہف کا قصہ ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی بہت سے واقعات کتبِ حدیث میں مذکور ہیں، جیسے اصحابِ غار کاواقعہ۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده جيد