أَبُو نُعْيَمٍ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعْيَمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی ہرگز نہ کہے کہ میں یونس بن متیٰ (علیہ السلام) سے بہتر ہوں۔“ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2781]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2788] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3412] ، [أبويعلی 5278، وله شاهد عند البخاري 4631] و [مسلم 2376] و [أبويعلی 6793]
وضاحت
(تشریح حدیث 2780)
یونس علیہ السلام ایک نبی تھے جن کا ذکر قرآن پاک میں کئی جگہ آیا ہے، اور آپ کو ذوالنون (مچھلی والا) بھی کہا گیا ہے: «﴿وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ﴾ [الصافات: 139] » اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے متعلق احادیث میں صراحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب انبیاء کے سردار ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سب سے بہتر کہنا جائز تو ہوا لیکن اس طرح کہا جائے کہ کسی بھی نبی کی تحقیر و تنقیص نہ ہو، سب کا ادب ملحوظِ خاطر رہے، یہ رسولِ گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تواضع تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یونس علیہ السلام پر فضیلت دیئے جانے سے منع فرمایا۔
الحكم: إسناده صحيح