بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2772 — اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی بےوقعتی
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی بےوقعتی حدیث 2772
حدیث نمبر: 2772 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَجَّاجٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي الْمُهَزِّمِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَخْلَةٍ جَرْبَاءَ قَدْ أَخْرَجَهَا أَهْلُهَا. قَالَ:"تُرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا؟". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: "وَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک کھجیلے بکری کے بچے کے پاس سے گذر ہوا جس کو اس کے مالک نے باہر پھینک دیا تھا، فرمایا: تم جانتے ہو یہ اپنے مالک کے لئے کتنی بے وقعت (ذلیل یا کم قیمت) ہے؟ عرض کیا: جی ہاں، فرمایا: الله کی قسم دنیا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ ذلیل ہے جتنا یہ بچہ اپنے مالک کے نزدیک ذلیل و حقیر ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2772]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف جدا أبو المهزم متروك، [مكتبه الشامله نمبر: 2779] »
اس روایت کی سند میں ابوالمہزم متروک ہیں اس لئے ضعیف جدا ہے، لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح ہے، اور اس کا شاہد [مسلم 2957] ، [ترمذي 2321] ، [ابن ماجه 4111] ، [أبويعلی 2593] ، [أحمد 229/4] میں موجود ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 2771)
اس حدیث میں دنیا سے بے رغبتی کی تعلیم ہے جو دنیا اللہ کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتی، دنیا صرف دار العمل ہے اور آخرت دار الجزاء، دار العمل کو بہت کم مدت میں ختم ہو جانا ہے، لیکن آخرت خیر و ابقیٰ ہے: «﴿وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴾ [العنكبوت: 64] » یقیناً سچی زندگی آخرت کا گھر ہے، اگر یہ جانتے ہوتے۔
الحكم: إسناده ضعيف جدا أبو المهزم متروك
← پچھلی حدیث (2771) باب پر واپس اگلی حدیث (2773) →