بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2757 — نماز تہجد کا بیان
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان نماز تہجد کا بیان حدیث 2757
حدیث نمبر: 2757 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، اللَّيْثُ ، ابْنُ عَجْلَانَ ، حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْغَبُ فِي قِيَامِ اللَّيْلِ حَتَّى قَالَ:"وَلَوْ رَكْعَةً".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کی نماز (تہجد) کی ترغیب دیتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: چاہے ایک رکعت ہی رات میں پڑھو۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2757]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف جدا من أجل حسين بن عبد الله بن عبيد الله. ولكن الحديث صحيح لغيره، [مكتبه الشامله نمبر: 2764] »
اس روایت کی یہ سند ضعیف ہے، لیکن حدیث صحیح لغیرہ ہے۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد 3565، بتحقيق حسين دراني]
وضاحت
(تشریح احادیث 2755 سے 2757)
اس حدیث سے تہجد یا قیام اللیل کی اہمیت معلوم ہوئی۔
نیز یہ کہ وتر ایک رکعت بھی پڑھنا درست ہے، جیسا کہ دوسری صحیح حدیث میں ہے: صبح ہوجانے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ لو، اس لئے یہ کہنا کہ ایک رکعت کوئی نماز نہیں، درست نہیں ہے۔
ایک مرتبہ ناچیز نے خواب دیکھا کہ سماحۃ الشیخ ابن باز رحمہ اللہ تہجد کی تأکید کر رہے ہیں، خواب ان سے عرض کیا تو فرمایا: قیام اللیل واجب تو نہیں ہے لیکن رات میں نماز ضرور پڑھنی چاہیے، چاہے دو رکعت ہی کیوں نہ ہو۔
والله اعلم۔
الحكم: إسناده ضعيف جدا من أجل حسين بن عبد الله بن عبيد الله. ولكن الحديث صحيح لغيره
← پچھلی حدیث (2756) باب پر واپس اگلی حدیث (2758) →