بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2728 — میرے نام پر نام رکھو میری کنیت پر کنیت نہ رکھو
کتب سنن دارمی کتاب الاستئذان کے بارے میں میرے نام پر نام رکھو میری کنیت پر کنیت نہ رکھو حدیث 2728
حدیث نمبر: 2728 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، هِشَامٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَسَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو، میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2728]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2735] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 110، 3539] ، [مسلم 2134] ، [أبوداؤد 4965] ، [ابن ماجه 3735] ، [أبويعلی 6102] ، [ابن حبان 5812] ، [الحميدي 1178]
وضاحت
(تشریح حدیث 2727)
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کنیت ابوالقاسم تھی اور نام محمد و احمد تھا۔
اس حدیث میں کنیت ابوالقاسم رکھنے کی ممانعت ہے جس میں کئی حکمتیں ہیں: ایک یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسا نام اور کنیت رکھنے میں پیغاماتِ الٰہیہ کے خلط ملط ہونے، اور جو حکم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نہ ہو اس کا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف منسوب ہونے کا اندیشہ و امکان تھا۔
اس لئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔
بعض علماء کے نزدیک یہ ممانعت اب تک برقرار ہے، بعض علماء نے کہا کہ اب ایسا اندیشہ نہیں اس لئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام اور کنیت ایک ساتھ بھی رکھی جاسکتی ہے، اور بعض نے کہا کہ کنیت اور نام جمع کرنا منع ہے، دوسرا قول راجح ہے۔
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه
← پچھلی حدیث (2727) باب پر واپس اگلی حدیث (2729) →