بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2686 — عورتوں کی مشابہت کرنے والے مخنث اور مردوں کے مشابہہ بننے والی عورتوں کا بیان
کتب سنن دارمی کتاب الاستئذان کے بارے میں عورتوں کی مشابہت کرنے والے مخنث اور مردوں کے مشابہہ بننے والی عورتوں کا بیان حدیث 2686
حدیث نمبر: 2686 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، مَالِكٌ ، أَبِي النَّضْرِ ، زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، قَالَ: جَلَسَ عِنْدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَخِذِي مُنْكَشِفَةٌ، فَقَالَ: "خَمِّرْ عَلَيْكَ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ؟".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
زرعہ بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد عبدالرحمٰن (بن جرہد رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا جو اصحابِ صفہ میں سے تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس بیٹھے اور میری ران کھلی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کو ڈھک لو، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ران عورة ہے (یعنی چھپانے کی چیز ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2686]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد وله شواهد أيضا يتقوى بها، [مكتبه الشامله نمبر: 2692] »
اس حدیث کی اسناد جید ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4014] ، [ترمذي 2795] ، [ابن حبان 1710] ، [موارد الظمآن 353] ، [الحميدي 880] ۔ سنن ابی داؤد میں ہے کہ جرہد اصحابِ صفہ میں سے تھے۔ نیز عبدالرحمٰن بن جرہد کا شمار صحابہ میں نہیں ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 2685)
امام اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ مسجد میں ران، جانگھ عورۃ ہے، حمام میں نہیں۔
اکثر علماء اور مجتہدین کا قول یہی ہے کہ ران عورۃ ہے اس کو چھپانا چاہیے، اس سے معلوم ہوا کہ جانگھیا نیکر پہننا درست نہیں کیونکہ ران اس سے کھلی رہتی ہے، بلکہ شرم گاہ تک کھل جاتی ہے، اور لڑکی تو سر سے پیر تک عورۃ ہے اس لئے مسلمان لڑکیوں کا اسکول میں فراک، نیکر، اسکرٹ وغیرہ پہننا بالکل حرام ہے۔
«فاعتبروا يا أولي الأبصار» ۔
الحكم: إسناده جيد وله شواهد أيضا يتقوى بها
← پچھلی حدیث (2685) باب پر واپس اگلی حدیث (2687) →