بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2663 — حق شفعہ کا بیان
کتب سنن دارمی خرید و فروخت کے ابواب حق شفعہ کا بیان حدیث 2663
حدیث نمبر: 2663 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَعْلَى ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشُّفْعَةِ إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا؟. قَالَ: "يُنْظَرُ بِهَا، وَإِنْ كَانَ صَاحِبُهَا غَائِبًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شفعہ کے بارے میں فرمایا: جب کہ دونوں ہمسایوں کا راستہ ایک ہو اس (ہمسائے) کا انتظار بسبب شفعہ کیا جائے گا گرچہ وہ غائب ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2663]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وقال الترمذي: " وقد تكلم شعبة في عبد الملك بن أبي سليمان من أجل هذا الحديث، [مكتبه الشامله نمبر: 2669] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1608] ، [أبوداؤد 3518] ، [ترمذي 1369] ، [نسائي 4660] ، [ابن ماجه 2494] ، [طيالسي 1404] ، [أحمد 303/3] ، [شرح معاني الآثار 120/4] ، [شرح السنة للبغوي 242/8] ، [بيهقي 106/6] ، [فتح الباري 438/4]
وضاحت
(تشریح حدیث 2662)
شفعہ اس حق کو کہتے ہیں جو جائیداد بیچتے وقت شریک کو حاصل ہوتا ہے، اور وہ حق یہ ہے کہ جو قیمت دوسرا خریدار دیتا ہے وہ قیمت دے کر اس جائیداد کو خود لے لے، اور یہ حق شریک اور ہمسایہ دونوں کو حاصل ہے جب کہ پڑوسی اور بیچنے والے کا راستہ ایک ہو، جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے اور یہی صحیح ہے۔
الحكم: إسناده صحيح وقال الترمذي: " وقد تكلم شعبة في عبد الملك بن أبي سليمان من أجل هذا الحديث
← پچھلی حدیث (2662) باب پر واپس اگلی حدیث (2664) →