بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2634 — اگر کسی سے کوئی چیز ٹوٹ جائے تو اسی کے مثل ادائیگی کرنے کا بیان
کتب سنن دارمی خرید و فروخت کے ابواب اگر کسی سے کوئی چیز ٹوٹ جائے تو اسی کے مثل ادائیگی کرنے کا بیان حدیث 2634
حدیث نمبر: 2634 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَهْدَى بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ قَصْعَةً فِيهَا ثَرِيدٌ، وَهُوَ فِي بَيْتِ بَعْضِ أَزْوَاجِهِ، فَضَرَبَتْ الْقَصْعَةَ فَانْكَسَرَتْ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ الثَّرِيدَ فَيَرُدُّهُ فِي الصَّحْفَةِ وَهُوَ يَقُولُ: "كُلُوا غَارَتْ أُمُّكُمْ". ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى جَاءَتْ قَصْعَةٌ صَحِيحَةٌ. فَأَخَذَهَا فَأَعْطَاهَا صَاحِبَةَ الْقَصْعَةِ الْمَكْسُورَةِ. قَالَ عَبْد اللَّهِ: نَقُولُ بِهَذَا.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کسی بیوی نے ایک پیالہ بھیجا جس میں ثرید تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوسری کسی بیوی کے گھر میں تھے، اس گھر والی نے پیالے پر ہاتھ مارا اور وہ پیالہ ٹوٹ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو جوڑا اور ثرید اس میں ڈالنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے جارہے تھے۔ کھاؤ تمہاری امی کو غیرت آگئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انتظار کیا یہاں تک کہ صحیح سالم پیالہ آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پیالے کو اس بیوی کو دے دیا جس کا پیالہ ٹوٹ گیا تھا۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: ہمارا بھی یہی قول ہے (یعنی کسی کا کوئی پیالہ توڑ دے تو اس کو اس کی جگہ دوسرا صحیح سالم پیالہ واپس کرنا چاہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2634]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح على شرط مسلم، [مكتبه الشامله نمبر: 2640] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2481، 5225] ، [أبوداؤد 3567] ، [ترمذي 1359] ، [أبويعلی 3339، 3774]
وضاحت
(تشریح حدیث 2633)
ہوا یہ تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری تھی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے حجرے میں قیام فرما تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے کھانا تیار کر رہی تھیں کہ دوسری بیوی نے ثرید کا ایک پیالہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے بھیجا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ ناگوار گذرا اور طیش میں آ کر ایک ہاتھ رسید کر دیا، پیالہ گرا اور ٹوٹ گیا اور ثرید بھی گر گیا۔
یہ ایک فطری امر تھا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مواخذہ نہیں فرمایا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حسنِ اخلاق دیکھئے کہ ناراضگی کا اظہار کیا نہ ڈانٹا نہ ڈپٹا، بلکہ گرے ہوئے کھانے کو خود سمیٹا اور گھر والوں سے کہا کھاؤ، تمہاری ماں کو غیرت آگئی۔
اس میں رزق کی قدر ہے، حسنِ تصرف ہے، اور ایک بیوی کے پاس دوسری بیوی کا ہدیہ آئے تو اسے قبول کرنے کی تعلیم ہے، اور پھر اگر کسی کا نقصان ہو جائے تو اس کی تلافی کا حکم ہے۔
سبحان الله! کتنی پاکیزہ سیرت اور تعلیم ہے ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی۔
الحكم: إسناده صحيح على شرط مسلم
← پچھلی حدیث (2633) باب پر واپس اگلی حدیث (2635) →