بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2611 — مدینہ کے صاع اور مد (پیمانوں) کا بیان
کتب سنن دارمی خرید و فروخت کے ابواب مدینہ کے صاع اور مد (پیمانوں) کا بیان حدیث 2611
حدیث نمبر: 2611 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَنَفِيُّ الْمَدَنِيُّ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَنَفِيُّ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ" يَعْنِي: الْمَدِينَةَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! ان کے پیمانوں میں برکت دے، ان کے صاع اور مد میں برکت دے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مراد اہلِ مدینہ تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2611]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 2617] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2130] ، [مسلم 1368] ، [ابن حبان 3746] ، [مشكل الآثار 97/2] ، [التمهيد لابن عبدالبر 278/1]
وضاحت
(تشریح حدیث 2610)
صاع اور مد اناج، غلے کو مانپنے کے پیمانے ہیں جو آج بھی سعودی عرب میں معروف ومشہور ہیں۔
اس دعا کا مقصد یہ تھا کہ الله تعالیٰ اہلِ مدینہ کی تجارت میں برکت دے اور خوشحالی نصیب فرما، اور بھی متعدد دعائیں مدینہ اور اہلِ مدینہ کے لئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیں جو قبول ہوئیں، اور آج مدینہ منورہ مکہ مکرمہ ہی کی طرح منبع اسلام اور خیر و برکت کا نمونہ بنا ہوا ہے، اور الله تعالیٰ حرمین شریفین کو ہمیشہ قائم دائم رکھے، اور اپنی برکتوں و رحمتوں کا یہاں نزول فرماتا رہے، اور ہمیشہ یہاں امن و امان رہے، سب کو مامون و محفوظ رکھے، آمین۔
الحكم: لم يحكم عليه المحقق
← پچھلی حدیث (2610) باب پر واپس اگلی حدیث (2612) →