بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2609 — مدبر غلام کی بیع کا بیان
کتب سنن دارمی خرید و فروخت کے ابواب مدبر غلام کی بیع کا بیان حدیث 2609
حدیث نمبر: 2609 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنَّا عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ. قَالَ: "فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاعَهُ". قَالَ جَابِرٌ: وَإِنَّمَا مَاتَ عَامَ أَوَّلَ. قِيلَ لعَبْدِ اللَّهِ: تَقُولُ بِهِ؟. قَالَ: قَوْمُ يَقُولُونَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم میں سے ایک شخص نے اپنے غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کرنے کے لئے کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس غلام کو بلایا اور اسے فروخت کردیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ پہلے سال میں مرگیا۔
امام دارمی رحمہ اللہ سے کہا گیا: آپ غلام مدبر کی بیع کے قائل ہیں؟ انہوں نے کہا: علماء یہی کہتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2609]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2615] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2141] ، [مسلم 997/59] ، [أبوداؤد 3957] ، [نسائي 2545] ، [أبويعلی 1825] ، [ابن حبان 3342] ، [الحميدي 1256]
وضاحت
(تشریح حدیث 2608)
«عَنْ دُبُرٍ» کا مطلب یہ ہے: اس غلام کی آزادی اپنی موت پر موقوف رکھی اور کہا: جس دن میں مروں تم آزاد ہو۔
لہٰذا غلام مدبر وہ ہے جس کو مالک کہہ دے کہ تو میرے مرنے کے بعد آزاد ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ اور اہلِ حدیث کے یہاں اس کی بیع جائز ہے جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے، وہ شخص مر گیا تھا، اس کی کچھ جائیداد نہ تھی، صرف یہی غلام مدبر تھا اور وہ شخص قرضدار تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہی مدبر غلام آٹھ سو درہم میں بیچ کر اس کا قرض ادا کر دیا۔
اکثر روایات میں ہے کہ اس شخص کی زندگی ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا قرض ادا کرنے کے لئے ان کے اس مدبر غلام کو نیلام فرمایا اور ان کے قرض خواہوں کو فارغ کر دیا تھا، اور یہ شخص سیدنا ابن الزبیر رضی اللہ عنہ کے دورِ امارت کے آغاز میں فوت ہوا، اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ قرض کا معاملہ کتنا خطرناک ہے کہ اس کے لئے غلام مدبر کو بھی نیلام کیا جا سکتا ہے، حالانکہ وہ غلام اپنے مالک کے مرنے کے بعد آزاد ہو جاتا ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور دیگر علماء کے نزدیک مدبر کی بیع جائز نہیں۔
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه
← پچھلی حدیث (2608) باب پر واپس اگلی حدیث (2610) →