بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2605 — شراب بیچنے کی ممانعت کا بیان
کتب سنن دارمی خرید و فروخت کے ابواب شراب بیچنے کی ممانعت کا بیان حدیث 2605
حدیث نمبر: 2605 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَعْلَى ، الْأَعْمَشُ ، مُسْلِمٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتِ الْآيَةُ فِي آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا،"خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاهُنَّ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب سورہ بقرہ کے آخر میں سود کی آیت اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور اس کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پڑھ کر سنایا۔ پھر شراب کی تجارت کو حرام کر دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2605]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2611] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 459، 2226] ، [مسلم 1850] ، [أبوداؤد 3490] ، [نسائي 4679] ، [ابن ماجه 3382] ، [أبويعلی 4467]
وضاحت
(تشریح حدیث 2604)
«خمر» (شراب) کی تعریف، اس کا حکم اور حد کا بیان کتاب الاشربہ اور کتاب الحدود میں گذر چکا ہے، یہاں اس باب میں شراب کی تجارت کا بیان ہے، جب شراب حرام ہے تو اس کی تجارت بھی حرام ہے۔
سورۂ بقرہ کی آیات میں: «﴿وَأَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ .....﴾ [البقرة: 275-280] » اس کا ذکر ہے، یعنی تجارت و سوداگری حلال ہے لیکن سودی لین دین اور حرام چیز کی تجارت جیسے شراب و خنزیر وغیرہ حرام ہے، اور شراب کی حرمت کا ذکر سورۂ مائدہ میں ہے جو بہت پہلے نازل ہوئی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آخر عمر میں ربا کی آیات کا ذکر کرتے ہوئے پھر شراب کی حرمت کو دہرایا تاکہ سب کو معلوم ہو جائے۔
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه
← پچھلی حدیث (2604) باب پر واپس اگلی حدیث (2606) →