بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2380 — قسم کھاتے وقت ان شاء اللہ کہنے کا بیان
کتب سنن دارمی نذر اور قسم کے مسائل قسم کھاتے وقت ان شاء اللہ کہنے کا بیان حدیث 2380
حدیث نمبر: 2380 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَجَّاجٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، ثُمَّ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ: إِنْ شَاءَ فَعَلَ، وَإِنْ شَاءَ لَمْ يَفْعَلْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کام پر قسم کھائے اور ساتھ ہی ان شاء الله بھی کہے تو اس کو اختیار ہے چاہے تو قسم پوری کرے اور چاہے تو پوری نہ کرے (یعنی قسم توڑ دے)۔ [سنن دارمي/من النذور و الايمان/حدیث: 2380]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2388] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ تخریج پیچھے گزر چکی ہے۔ مزید دیکھئے: [ابن حبان 4342] ، [موارد الظمآن 1184]
وضاحت
(تشریح احادیث 2378 سے 2380)
اس حدیث کی رو سے قسم کھانے والا ساتھ ہی اگر ان شاء اللہ کہہ دے تو ایسی قسم توڑ دینے پر کفارہ نہیں ہوگا، کیونکہ قسم کو جب مشیت الٰہی سے مقید کر دیا جائے تو وہ قسم بالاتفاق منعقد نہیں ہوتی، لہٰذا جب منعقد ہی نہیں ہوئی تو پھر اس کے توڑنے پر کفارہ کا کیا سوال۔
حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین بار فرمایا: اللہ کی قسم! میں قریش سے جہاد کروں گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جہا نہیں کیا حالانکہ قسم کا تقاضہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ضرور جہاد کریں، کیونکہ ان شاء اللہ کہہ دیا تھا اس لئے جہاد نہیں کیا، اور کفار بھی نہیں دیا، اگر کفارے سے بچنا ہو تو قسم کے ساتھ ہی ان شاء اللہ کہنا چاہئے۔
بعض علماء نے کہا ہے کہ اگر کچھ دیر کے بعد ان شاء اللہ کہا تو اختیار نہیں ہوگا اور قسم توڑنے پر کفارہ بھی ادا کرنا ہوگا۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (2379) باب پر واپس اگلی حدیث (2381) →